ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / روشن بیگ اور تنویر سیٹھ نے وی کے عبیداﷲ اسکول کی نئی عمارت کا معائنہ کیا

روشن بیگ اور تنویر سیٹھ نے وی کے عبیداﷲ اسکول کی نئی عمارت کا معائنہ کیا

Tue, 07 Feb 2017 11:04:38    S.O. News Service

اسکول میں اگلے سال سے ہی نرسری تا پی یو سی تعلیم کا انتظام : تنویر سیٹھ
بنگلورو،6؍فروری(ایس اونیوز)شہر کے شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں آنے والے شیواجی روڈ پر واقع تاریخی سرکاری وی کے عبیداﷲ اردو اسکول کی تعمیر جو تکمیلی مراحل کو پہنچ چکی ہے، آج ریاستی وزراء جناب روشن بیگ اور تنویر سیٹھ نے اس عالیشان عمارت کا معائنہ کیا اور ایک اردو اسکول کیلئے آئی ایم اے کی طرف سے کھڑی کی گئی عمارت کی تعمیر پر اپنی بے انتہا مسرت کا اظہار کیا اور اس کیلئے آئی ایم اے کے ذمہ داروں کو فراخدلی سے مبارکباد دی۔ جناب روشن بیگ نے اس اسکول کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ انہیں فخر ہے کہ آج اس اسکول کے ایک طالب علم ہونے کے ناطے وہ اپنی اسکول کو اس قدر شاندار عمارت میں تبدیل کرنے کیلئے کچھ خدمت انجام دے پائے۔ انہوں نے کہاکہ آئی اے ایم کی طرف سے اس اسکول کو ایک بین الاقوامی معیار کی عمارت میں تبدیل کرنے اور اس اسکول کا ذمہ اپنے سر لینے کی جو پہل کی گئی ہے وہ نہ صرف کرناٹک کیلئے بلکہ سارے ملک کیلئے ایک مثال ہے۔ جناب روشن بیگ نے کہا کہ انہیں یہ فخر ہے کہ کرناٹک کا حج ہاؤز جس طرح سارے ملک کیلئے ایک مثال ہے ، اسی طرح وی کے عبیداﷲ سرکاری اسکول ملک کی تمام سرکاری اسکولوں کیلئے ایک مثال ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم اے کے وہ مشکور ہیں کہ انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اس اسکول کی تعمیر نہ صرف مکمل کی ہے، بلکہ آنے والے دنوں میں انپی ہی نگرانی میں اس اسکول کو چلانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس اسکول کو چلانے میں آئی ایم اے کا ریاستی حکومت بھرپور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ اس اسکول میں ہائی اسکول بھی قائم ہوجائے، لیکن وزیر تعلیمات تنویر سیٹھ نے اس اسکول کے انفرااسٹرکچر کو دیکھ کر طے کیا ہے کہ یہاں نہ صرف ہائی اسکول بلکہ پی یو سی کالج بھی قائم ہوگی ، جس کیلئے وہ ان کے ممنون ہیں۔ اس موقع پر وزیر بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ نے اس عمارت کا معائنہ کرنے کے بعد اپنا پہلا تاثر یہ ظاہر کیا کہ اردو اسکول کے تعلق سے اس طرح کا تصور صرف خواب ہی میں ہوسکتا تھا۔ آئی ایم اے کے ذمہ داروں نے ایک دیرینہ خواب کو جامۂ حقیقت پہنا کر عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔اس کیلئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ تنویر سیٹھ نے کہاکہ اب تک اس اسکول میں ہائر پرائمری تک تعلیم کا انتظام تھا۔جناب روشن بیگ نے ان سے گذارش کی کہ اس اسکول میں ہائی اسکول چلانے کی بھی اجازت دی جائے۔اب اس اسکول کی عالیشان عمارت کو دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنے طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اس عمارت میں صرف ہائی اسکول ہی نہیں ،بلکہ پی یو سی کالج چلانے کی بھی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے اس سلسلے میں وہاں موجود بی ای او کو بھی ہدایت جاری کردی کہ فوری طور پر آئی ایم اے کو یہاں پی یو کالج چلانے کی بھی اجازت دے دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ اس قدر شفاف اور جدید ماحول میں اگر بچوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کیا جائے تو یقیناًاردو اسکولوں سے فارغ ہونے والے بچے بھی آنے والے دنوں میں ملک کیلئے ایک اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک اردو اسکول کی عمارت کو ہر ایک کی سوچ سے آگے بڑھ کر بنانے میں جو خدمت انجام دی گئی ہے اس کا جس قدر بھی اعتراف کیا جائے کم ہے۔آنے والے دنوں میں ریاستی حکومت کی اڈاپشن پالیسی کے تحت جو بھی ادارہ کسی بھی سرکاری اسکول کو چلانے کیلئے آگے آئے گا اسے اسکول کا پورا انتظامیہ سونپ دیا جائے گا۔یہاں تک کہ سرکاری اساتذہ کے علاوہ اگر بچوں کے معیار تعلیم کو بلند کرنے کیلئے اس اسکول کے ذمہ داران اگر اپنے طور پر اساتذہ کو مقرر کرنا چاہیں تو بھی حکومت اس کی اجازت فراخدلی سے دے گی۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت اس اسکول میں 107بچے زیر تعلیم ہیں۔ آنے والے دنوں میں توقع ہے کہ بہتر سہولیات کے سبب اس اسکول میں طلبا کی تعداد اور بھی بڑھے گی۔اس موقع پر وزیر موصوف کو بتایا گیا کہ اسکول کے اس انفرااسٹرکچر کو دیکھ کر داخلہ کیلئے اب تک 500 سے زائد بچوں کے ناموں کا اندراج کروایا جاچکا ہے، جس پر دونوں وزراء نے اپنی مسرت کا اظہار کیااور کہاکہ اگر بہتر انفرا اسٹرکچر کے ساتھ تعلیم دی جائے تو اردو اسکولوں میں بھی بچوں کی تعداد کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ تنویر سیٹھ نے کہاکہ اس نئی اسکول میں حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے تحت سہ لسانی فارمولے کی بنیاد پر تعلیم ہوگی، جس میں بچوں کی مادری زبان اردو ہوگی اور انہیں انگریزی اور کنڑا کی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں بھی دیگر اداروں اور انجمنوں کو اس طرح سرکاری اسکولوں کو گود لینے کیلئے آگے آنا چاہئے۔ تنویر سیٹھ نے کہاکہ ریاستی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے تحت ہر تعلقہ میں ایک ہائی اسکول کے احاطہ میں پی یو سی کالج کے قیام کی منظوری دی جاسکتی ہے۔اس پالیسی کو ابھی ابھی نافذ کیا گیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وی کے عبید اﷲ اسکول پہلی ہوگی، جہاں پر اس پالیسی کے تحت نرسری سے پی یو سی تک تعلیم کیلئے حکومت کی طرف سے اجازت دی جائے گی۔


Share: